رسالہ
اسماع الاربعین فی شفاعۃ سیدالمحبوبین
(محبوبوں کے سردار کی شفاعت کے بارے میں چالیس حدیثیں سنانا)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۶۵ : کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا شفیع ہونا کس حدیث سے ثابت ہے؟ بینوا توجروا ( بیان فرمائیے اجردیئے جاؤ گے ۔ت)
Question: What does Scholars of Islam say in the case that,from which hadith it is proved that the prophet is intercessor (on the day of judgement). Answer and earn rewards.
الجوا ب
الحمدﷲ البصیر السمیع والصلوۃ والسلام علی البشیر الشفیع وعلٰی الہ وصحبہ کل مساء وسطیع > سب تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے جو دیکھنے والا سننے والا ہے، اور درود و سلام نازل ہو بشارت دینے والے شفاعت کرنے والے پر اور اس کے آل و اصحاب پر ہر شام کو اور ہر صبح کو۔(ت)
All praise to Allah, the seer and hearer and peace and blessings upon the bearer of glad tidings and the intercessor, and upon his family and his companions, every dusk and dawn.
سُبحان اﷲ !ایسے سوال سُن کر تعجب آتا ہے کہ مسلمان و مدعیان سنیت اور ایسے واضح عقائد میں تشکیک کی آفت، یہ بھی قُربِ قیامت کی ایک علامت ہے ۔"انّا ﷲ واناّ الیہ راجعون "
Glory to lord, by hearing this question I wonder that a muslim claiming to be sunni and trial of doubt in such clear beliefs, this is also from the sign of nearness of the day of judgement.
احادیثِ شفاعت بھی ایسی چیز ہیں جو کسی طرح چھپ سکیں، بیسیوں صحابہ، صدہا تابعین، ہزار ہا محدثین ان کے راوی ، حدیث کی ہر گو نہ کتابیں صحاح، سُنن، مسانید، معاجیم، جوامع ، مصنفات ان سے مالا مال۔ اہل سنت کا ہر متنفس یہاں تک کہ زنان و اطفال بلکہ دہقانی جہال بھی اس عقیدے سے آگاہ، خدا کا دیدار محمد کی شفاعت ایک ایک بچے کی زبان پر جاری ،صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و بارک و شرف ومجدوکرم۔
Are prophetic traditions on intercession are such that which can be hidden by anyway? many companions, hundreds of taba'een and thousands of muhadditheen have narrated them. Every book of ahadith from Sihah, Sunan, Masaneed, Mu'aajeem, Jawama'e and Musannifaat are full of them. Every person belonging to Ahlus Sunnah, even women and children, but illiterate villagers, are aware of this belief. Vision of Lord and intercession of Muhammed is on every children's tongue.
فقیر غفرلہ اﷲ تعالٰی لہ نے رسالہ" سمع وطاعۃ الاحادیث الشفاعۃ"میں بہت کثرت سے ان احادیث کی جمع و تلخیص کی، (یہاں ) بہ نہایت اجمال صرف چالیس حدیثوں کی طرف اشارت، اور ان سے پہلے چند آیاتِ قرآنیہ کی تلاوت کرتا ہوں۔
I, the needy (may Allah forgive him), have collected and summarized many ahadith in the book " سمع وطاعۃ الاحادیث الشفاعۃ". Here (in this booklet) I will very concisely hint towards 40 ahadith but before that I would quote few Quranic verses.
الآیات
The Quranic verses
آیتِ اُولٰی : قال اﷲ تعالٰی ( اﷲ تعالٰی نے فرمایا) :عسٰی ان یبعثک ربّک مقاما محموداً ۱ ؎۔قریب ہے کہ تیر ارب تجھے مقامِ محمود میں بھیجے۔
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۱۷ /۷۶)
1st verse: Allah, the exalted says:soon will thy Lord raise thee to a Station of Praise and Glory! (17:79)
حدیث شریف میں ہے حضور شفیع المذنبین صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی گئی ، مقامِ محمود کیا چیز ہے : فرمایا :ھوالشفاعۃ ۲۔وہ شفاعت ہے۔
( ۲ ؎ جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ بنی اسرائیل امین کمپنی دہلی ۲ /۱۴۲)
It is in hadith that, the intercessor of sinners was asked, what is 'Station of praise and glory'? He told : That is intercession.
آیتِ ثانیہ : قال اﷲ تعالٰی ( اﷲ تعالٰی نے فرمایا):ولسوف یعطیک ربّک فترضٰی۳ ؎۔اور قریب تر ہے تجھے تیرا رب اتنا دے گا کہ تُو راضی ہوجائے گا۔
( ۳ ؎ القرآن الکریم ۹۳/ ۵)
2nd verse: Allah, the exalted says: And verily thy Lord will give unto thee so that thou wilt be content. (93:5)
دیلمی مسند الفردوس میں امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ، سے راوی، جب یہ آیت اتری حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :اذًا لاارضٰی وواحد من امتی فی النار۴ ؎۔اللھّٰم صلّ وسلم وبارِ ک علیہ۔یعنی جب اﷲ تعالٰی مجھ سے راضی کردینے کا وعدہ فرماتا ہے تو میں راضی نہ ہوں گا اگر میرا ایک امتی بھی دوزخ میں رہا۔ ( ۴ ؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ۹۳ /۵ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۳۱ /۲۱۳)
In Musnad ul-Firdous, it is narrated by Ameer ul-Momineen Maula Ali that when this verse was revealed. The Prophet said : When the lord promised my pleasure then I will not be pleased even if my single follower is in hell fire.
طبرانی معجم اوسط اور بزار مسند میں جناب مولٰی المسلمین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :اشفع الامتی حتی ینادینی ربی قدارضیت یا محمد فاقول ای ربّ قد رضیت۱ ؎میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا یہاں تک کہ میرا رب پکارے گا اے محمد! تو راضی ہوا؟ میں عرض کروں گا: اے رب میرے ! میں راضی ہوا۔
In Tibrani Mo'ajjam ul-Ausat and Bazzar Musnad, it narrated by Ameer ul-Momineen that the Prophet said: I will keep interceding for my ummah until my Lord would ask : O Muhammad are you pleased? I would say : O my lord, I'm pleased.
( ۱ ؎ المعجم الاوسط حدیث ۲۰۸۳مکتبۃ المعارف ریاض ۳ /۴۴)
(الترغیب الترہیب کتاب البعث فصل فی الشفاعۃ مصطفٰی البابی مصر ۴ /۴۴۶)
(الدرالمنثور تحت الآیۃ ۹۳/ ۵ مکتبۃ آیۃ اﷲ العظمٰی قسم ایران ۶ /۳۶۱)
آیت ثالثہ ۳: قال اﷲ تعالٰی (اﷲ تعالٰی نے فرمایا) :واستغفرلذنبک وللمؤمنین والمؤمنٰت ۲ ؎۔اے محبوب ! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگی۔
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۴۷ /۱۹ )3
3rd verse: Allah, the exalted says: and seek the forgiveness of sins of your close ones and for the common believing men and women. (47:19)
اس آیت میں اﷲ تعالٰی اپنے حبیب کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کو حکم دیتا ہے کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے گناہ مجھ سے بخشواؤ، اور شفاعت کا ہے کا نام ہے۔
In this verse, Allah orders his prophet to get muslim men and women forgiven by him. What else is intercession?
آیت رابعہ ۴ : قال اﷲ تعالٰی (اﷲ تعالٰی نے فرمایا) :ولوانھم اذظلموا انفسھم جاء وک فاستغفروا اﷲ واستغفر لہم الرسول لوجد وااﷲ توّاباً رحیما ۳ ؎۔ اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں، تیرے پاس حاضر ہوں، پھر خدا سے استغفار کریں، اور رسول ان کی بخشش مانگے تو بیشک اﷲ تعالٰی کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔( ۳ ؎ القرآن الکریم ۴ /۶۴)
اس آیت میں اﷲ تعالٰی اپنے حبیب کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کو حکم دیتا ہے کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے گناہ مجھ سے بخشواؤ، اور شفاعت کا ہے کا نام ہے۔
In this verse, Allah orders his prophet to get muslim men and women forgiven by him. What else is intercession?
آیت رابعہ ۴ : قال اﷲ تعالٰی (اﷲ تعالٰی نے فرمایا) :ولوانھم اذظلموا انفسھم جاء وک فاستغفروا اﷲ واستغفر لہم الرسول لوجد وااﷲ توّاباً رحیما ۳ ؎۔ اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں، تیرے پاس حاضر ہوں، پھر خدا سے استغفار کریں، اور رسول ان کی بخشش مانگے تو بیشک اﷲ تعالٰی کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔( ۳ ؎ القرآن الکریم ۴ /۶۴)
4th verse: Allah, the exalted says:and if they, when they have wronged their own souls, come humbly to you (O dear Prophet Mohammed - peace and blessings be upon him) and seek forgiveness from Allah, and the Noble Messenger intercedes for them, they will certainly find Allah as the Most Acceptor Of Repentance, the Most Merciful.(4:64)
اس آیت میں مسلمانوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ گناہ کرکے اس نبی کی سرکار میں حاضر ہو اور اُس سے درخواستِ شفاعت کرو، محبوب تمہاری شفاعت فرمائے گا۔ تو ہم یقیناً تمہارے گناہ بخش دیں گے۔
In this verse Allah tell Muslims that after sinning, present yourself at the court of Prophet and request him for intercession. Beloved will intercede for you then I would surely forgive your sins.
آیتِ خمسہ ۵: قال اﷲ تعالٰی (اﷲ تعالٰی نے فرمایا) :واذاقیل لہم تعالوا یستغفر لکم رسول اﷲ لوّوا رء وسھم ۱ ؎۔جب ان منافقوں سے کہا جائے کہ آؤ رسول اﷲ تمہاری مغفرت مانگیں تو اپنے سر پھیر لیتے ہیں۔
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۶۳ /۵)4th verse: Allah, the exalted says:And when it is said to them, “Come! Allah’s Noble Messenger may seek forgiveness for you” - they turn their heads away, and you will see them turning away in pride.(63:5)
اس آیت میں منافقوں کا حال بد مآل ارشاد ہوا کہ وہ حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے شفاعت نہیں چاہتے، پھر جو آج نہیں چاہتے وہ کل نہ پائیں گے۔ اﷲ دنیا و آخرت میں ان کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے۔ ؎
حشر میں ہم بھی سیر دیکھیں گے منکر آج ان سے التجا نہ کرے
وصلی اﷲ تعالٰی علٰی شفیع المذنبین واٰلہ وصحبہ وحزبہ اجمعین ۔اﷲ تعالٰی درودنازل فرمائے گنہگاروں کی شفاعت فرمانے والے پر اور ان کی آل، اصحاب اور تمام امت پر۔(ت)
In this verse, the bad condition of hypocrites is told that they dont want intercession of the Prophet. So the one who doesnt want it today, wont get it tomorrow. May Allah benefit us from his intercession in this world and the next.
May Allah send blessings on the intercessor of sinners, on his family, companions and whole ummah.
الاحادیث
Ahadith (Traditions)
شفاعت کُبرٰی کی حدیثیں جن میں صاف صریح ارشاد ہوا کہ عرصاتِ محشر میں وہ طویل دن ہوگا کہ کاٹے نہ کٹے اور سروں پر آفتاب اور دوزخ نزدیک، اُس دن سورج میں دس برس کامل کی گرمی جمع کریں گے اور سروں سے کچھ ہی فاصلہ پر لارکھیں گے، پیاس کی وہ شدت کہ خدا نہ دکھائے، گرمی وہ قیامت کہ اﷲ بچائے، بانسوں پسینہ زمین میں جذب ہو کر اوپر چڑھے گا، یہاں تک کہ گلے گلے سے بھی اونچے ہوگا، جہاز چھوڑیں تو بہنے لگیں ، لوگ اس میں غوطے کھائیں گے ، گھبرا گھبرا کر دل حلق تک آجائیں گے۔
The traditions of Shafa'ate Kubr'a (The greatest intercession) in which it is clearly mentioned that, on the day of judgement, the day will be so long that it wouldn't pass, there will sun directly over head and hell will be near. That day sun will be 10 years hotter and will be placed near to head. The intensity of thirst would be such that, may Allah not show us that. The exterem heatness, that Allah protect. The sweat after being absorbed by earth would rise up, as high as level of neck and even higher than that even if a ship is placed, it would sail over it. People will dive in that. The extreme anxiety will cause the heart to come to throat.
لوگ ان عظیم آفتوں میں جان سے تنگ آکر شفیع کی تلاش میں جا بجا پھریں گے، آدم و نوح، خلیل وکلیم و مسیح علیہم الصلوۃ والتسلیم کے پاس حاضر ہو کر جواب صاف سنیں گے ، سب انبیاء فرمائیں گے ہمارا یہ مرتبہ نہیں ہم اس لائق نہیں ہم سے یہ کام نہ نکلے گا، نفسی نفسی ، تم اور کسی کے پاس جاؤ، یہاں تک کہ سب کے بعد حضور پُرنور خاتم النبیین ، سیدّالاولین والآخرین، شفیع المذنبین ، رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم" اَنالَہا انالہَا "۲فرمائیں گے یعنی میں ہوں شفاعت کے لیے ، میں ہوں شفاعت کے لیے۔
Upset by these extreme calamities, people wander everywhere to search for an intercessor and helper. They would go to Aadam, Nooh, Khaleel (Ibraheem), Kaleem(Moosa) and Maseeh (Isaa) and would not get help. All prophets will say : This is not our status nor we are worthy to do it. I'm concered about myself, you go to someone else until finally they would reach in the service of the Prophet. The Prophet would say : I'm for you, I'm for you!.
( ۲ ؎ البدایۃ والنہایۃ ذکر ثناء اﷲ و رسولہ الکریم علی عبدوخلیلہ ابراہیم مکتبہ المعارف بیروت ۱ /۱۷۱)
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخقدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۰)
پھر اپنے رب کریم جلالہ، کی بارگاہ میں حاضر ہو کر سجدہ کریں گے ان کا رب تبارک و تعالٰی ارشاد فرمائے گا :یامحمد ارفع رأسَک وقل تُسمع وسل تعطہ واشفع تشفع ۱ ؎۔اے محمد !اپنا سر اٹھاؤ اور عرض کرو تمہاری بات سنی جائے گی اور مانگو کہ تمہیں عطا ہوگا اورشفاعت کرو کہ تمہاری شفاعت قبول ہے۔
They he would come to the court of his glorious and merciful lord and prostrate. His Lord would say : O Muhammad, raise your head and request, you will be heard,ask so that your are given and interceded as your intercession will be accepted.
( ۱ ؎ صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب قول اﷲ تعالٰی ولقدارسلنا نوحاً الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۷۰)
(صحیح البخاری کتاب الرقاق باب صفۃ الجنۃ والنار قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۷۱)
(صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی لما خلقت بیدی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۰۲)
(صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی وجوہ یومئذ ناضرۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۰۸)
(صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول الرب یوم القیمۃ الانبیاء وغیرہم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۱۸)
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۸ تا ۱۱۱)
یہی مقامِ محمود ہوگا جہاں تمام اولین و آخرین میں حضور کی تعریف و حمد و ثنا کا غُل پڑ جائے گا اور موافق و مخالف سب پر کھل جائے گا۔ بارگاہِ الہٰی میں جو وجاہت ہمارے آقا کی ہے کسی کی نہیں اور مالک عظیم جل جلالہ کے یہاں جو عظمت ہمارے مولےٰ کے لیے ہے کسی کے لیے نہیں والحمدﷲ رب العلمین۔ (اور تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔ت) اسی لیے اﷲ تعالٰی اپنی حکمتِ کاملہ کے مطابق لوگوں کے دلوں میں ڈالے گا کہ پہلے اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے پاس جائیں اور وہاں سے محروم پھر کر ان کی خدمت میں حاضر آئیں تاکہ سب جان لیں کہ منصب شفاعت اسی سرکار کا خاصہ ہے دوسرے کی مجال نہیں کہ اس کا دروازہ کھول سکے،والحمدﷲ رب العلمین ( اور تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔ت)
This will be the station of praise and glory, where his praise and glory will be known and all the supporters and opponents will know about his status. No one has the honor which our master has in the court of almighty. No one has the greatness our chief has in the court of almighty.
Hence, as per his wisdom, Allah would let people go to all other prophets and after returning depressed , present at his court so everybody come to know that intercession is only specific to him and no one else is permitted to open its door.
یہ حدیثیں صحیح بخاری و صحیح مسلم تمام کتابوں میں مذکور اور اہلِ اسلام میں معروف و مشہور ہیں، ذکر کی حاجت نہیں کہ بہت طویل ہیں۔ شک لانے والا اگر دو حرف بھی پڑھا ہو تو مشکوۃ شریف کا اردو میں ترجمہ منگاکر دیکھ لے یا کسی مسلمان سے کہے کہ پڑھ کر سُنا دے۔ اور انہیں حدیثوں کے آخر میں یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ شفاعت کرنے کے بعد حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بخشش گنہگارانِ کے لیے بار بار شفاعت فرمائیں گے اور ہر دفعہ اﷲ تعالٰی وہی کلمات فرمائے گا اور حضور ہر مرتبہ بے شمار بندگانِ خدا کو نجات بخشیں گے۔ بار بار شفاعت فرمائیں گے اور ہر دفعہ اﷲ تعالٰی وہی کلمات فرمائے گا اور حضور ہر مرتبہ بے شمار بندگانِ خدا کو نجات بخشیں گے۔
These traditions are mentioned in Sahih Bukhari, Sahih Muslim and all other books. These are famous and well known by muslims. There is no need of mentioning it here as its very lengthy. The person who has doubt in it, if he is literate, let him look into the translation of Mishkat Shareef or else ask any muslim to read it for him.
It is also mentioned at the end of these traditions that, after intercession the Prophet would intercede for sinners again and again and each time almighty Allah will say the same statement. The Prophet would save innumerous people each time. He will intercede repeatedly and each time the lord would ask him again and the Prophet would save innumerous sinners each time.
میں ان مشہور حدیثون کے سوا ایک اربعین یعنی چالیس حدیثیں اور لکھتا ہوں جو گوش عوام تک کم پہنچی ہوں ، جن سے مسلمانوں کا ایمان ترقی پائے، منکرِ کا دل آتشِ غیظ میں جل جائے، بالخصوص جن سے اس ناپاک تحریف کا رَد شریف ہو جو بعض بددینوں ، خدا ناترسوں، ناحق کوشوں، باطل کیشوں نے معنی شفاعت میں کیں اور انکارِ شفاعت کے چہرہ نجس چھپانے کو ایک جھوٹی صورت نام کی شفاعت دل سے گھڑی ۔
Other than these famous traditions I'm writing 40 more traditions which people wouldnt have heard much, by which the faith of muslims would increase, heart of rejectors would burn in anger, especially of those who get the answer impure distortion which is done by some
ان حدیثوں سے واضح ہوگا یہ حدیثیں ظاہر کریں گی کہ ہمیں خدا اور رسول نے کان کھول کر شفیع کا پیارا نام بتادیا اور صاف فرمایا کہ وہ محمد رسول اﷲ ہیں(صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) نہ یہ کہ بات گول رکھی ہو جیسے ایک بدبخت کہتا ہے کہ اسی کے اختیار پر چھوڑ دیجئے جس کو وہ چاہے ہمارا شفیع کردے۔
It will be clear by these traditions and these traditions will show that Allah and Prophet has told us about the good name of intercessor and they clearly told us that he is Muhammad, the Prophet of Allah. Its not that statements are not clear, just like one wretched said, leave at the discretion of Allah, let him make our intercessor whomsoever he wish.
یہ حدیثیں مژدہ جانفزا دیں گی کہ حضور کی شفاعت نہ اس کے لیے ہے جس سے اتفاقاً گناہ ہوگیا ہو اور وہ اس پر ہر وقت نادم و پریشان و ترساں ولرزاں ہے جس طرح ایک دُزد باطن کہتا ہے کہ چور پر تو چوری ثابت ہوگئی مگر وہ ہمیشہ کا چور نہیں اور چوری کو اس نے کچھ اپنا پیشہ نہیں ٹھہرایا مگر نفس کی شامت سے قصور ہوگیا سو اس پر شرمندہ ہے اور رات دن ڈرتا ہے۔ نہیں نہیں ان کے رب کی قسم جس نے انہیں شفیع المذنبین کیا۔ اُن کی شفاعت ہم جیسے روسیاہوں ، پُرگناہوں، سیاہ کاروں ستم گاروں کے لیے ہے جن کا بال بال گناہ میں بندھا ہے جن کے نام سے گناہ بھی تنگ وعار رکھتا ہے۔ ع
These tradition will revive glad tidings that the intercession of the Prophet is not only for the only who committed sin by mistake and he remains upset,worried, sorry and trembled all the time like a thief said that theft is proved for a thief but he doent remain thief forever and he hasnt make theft as his profession ,but due to self woe he committed the crime and hence he is sorry for that and he keeps fearing day and night.
No, swear by his lord, who made him the intercessor of sinners that his intercession is for sinners like us whose every hair is tied with sin, by whose name even sin shy.
ترسم آلودہ شود دامنِ عصیاں از من
( میں ڈرتا ہوں کہ گناہوں کا دامن میری وجہ سے آلودہ ہوجائے گا۔ت)
وحسبنا اﷲ تعالٰی و نعم الوکیل و الصلوۃ والسلام علی الشفیع الجمیل وعلٰی اٰلہ وصحبہ بالوف التبجیل والحمد ﷲ ربّ العلمین ربّ العلمین ۔
اور اﷲ تعالٰی ہمارے لیے کافی ہے اور کیا ہی خوب کار ساز ہے، اور درود و سلام نازل ہوجمال والے شفیع پر اور ان کے آل و اصحاب پر ہزاروں تعظیم و تکریم کے ساتھ، اور تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۱ و۲: امام احمد بسندِ صحیح اپنی مسند میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اور ابن ماجہ حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : خُیِّرت بین الشفاعۃ وبین ان یدخل نصف امتی الجنۃ فاخترت الشفاعۃ لانھا اعم واکفٰی ترونھا للمتقین لا ولکنھا للمذنبین الخطائین المتلوثین ۔۱
اللہ تعالٰی نے مجھے اختیار دیا کہ یا تو شفاعت لو یا یہ کہ تمہاری آدمی امت جنت میں جائے میں نے شفاعت لی کہ وہ زیادہ تمام اور زیادہ کام آنے والی ہے، کیا تم یہ سمجھ لیے ہو کہ میری شفاعت پاکیزہ مسلمانوں کے لیے ہے؟ نہیں بلکہ وہ ان گنہگاروں کے واسطے ہے جو گناہوں میں آلودہ اور سخت خطا کار ہیں۔
Hadith 1-2 : Imam Ahmad in his musnad by sound narration narrate from Abdullah bin Umar and Ibn Majah narrate from Abu Musa Ash'ari that the Prophet said: Allah, the exalted gave me the authority to choose between intercession and that half of my ummah is to enter heavens. So I chose intercession because it is general. Do you think my intercession is for pious muslims? no, it is for those sinners who are
( ۱ ؎سنن ابن ماجہ ابواب الزہد باب ذکر الشفاعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۹)
(مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن عمرالمکتب الاسلامی بیروت ۲ /۷۵)
اللّٰھم صل وسلم وبارک علیہ والحمد اﷲ رب العٰلمین ۔
اے اللہ ! درود و سلام اور برکت نازل فرما ان پر، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کاپروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۳: ابن عدی حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :شفاعتی للہالکین من اُمتی ۲ ؎۔میری شفاعت میرے ان امتیوں کے لیے ہے جنہیں گناہوں نے ہلاک کر ڈالا۔حق ہے اے شفیع میرے، میں قربان تیرے،صلی اللہ علیک۔
( ۲ ؎الکامل لابن عدی ترجمہ عمرو بن المحرم دارالفکر بیروت ۵ /۱۸۰۱)
(کنزالعمال حدیث ۳۹۰۷۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۴ /۴۰۱)
Hadith 3 : Ibn A'di narrate from mother of believers, Umme Salmah, The prophet said : My intercession is for those of my people who are perished by their sins.
حدیث ۴:۸ : حضرت ابوداؤد و ترمذی و ابن حبان و حاکم و بیہقی بافادہ صحیح حضرت انس بن مالک اور ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان، و حاکم حضرت جابر بن عبداللہ اور طبرانی معجم کبیر میں حضرت عبداللہ بن عباس اور خطیبِ بغدادی حضرت عبداﷲ ابن عمر فاروق و حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :شفاعتی یوم القٰیمۃ لاھل الکبائر من امّتی ۱ ؎۔میری شفاعت میری امت میں ان کے لیے ہے جو کبیرہ گناہ والے ہیں۔صلی اللہ علیک وسلم، والحمد ﷲ رب العلمین ۔اﷲ تعالٰی آپ پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا رپروردگار ہے۔(ت)
Hadith 4-8 : Abu Dawud, Tirmizi, Ibn Habban, Hakim, Bayhaqi narrate from Anas bin Malik by Sahih hadith.
Tirmizi, Ibn Majah, Ibn Habban and Hakim narrate from Jabir bin Abdullah
Tibrani Moajjam al-Kabir narrate from Abdullah bin Abbas
Khateeb Baghdadi narrate from Abdullah bin Umar Faruq and Ka'ab bin Ujrah.
The Prophet said : My intercession on the day of judgement will be for grave sinners from my ummah.
( ۱ ؎سُنن ابنِ ماجہ ابواب الزہد باب ذکر الشفاعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۹)
(سُنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی الشفاعۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۹۶)
(جامع الترمذی ابواب صفۃ القیمۃ باب ماجاء فی الشفاعۃ امین کمپنی دہلی۲ /۶۶)
(المستدرک للحاکم کتاب الایمان شفاعتی لاہل الکبائر من امتی دارالفکر بیروت ۱ /۶۹)
(السنن الکبرٰی کتاب الجنایات۸ /۱۷ وکتاب الشہادات دارصادر بیروت ۱۰ /۱۹۰)
(المعجم الکبیر حدیث ۱۱۴۵۴ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ /۱۸۹)
(موارد الظمٰان الٰی زوائد ابن حبان حدیث ۲۵۹۶ المطبعۃ السلفیہ ص۳۴۵)
( کنز العمال حدیث ۳۹۰۵۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۴/ ۳۹۸)
حدیث ۹ : ابوبکر احمد بن بغدادی حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : شفاعتی لاھل الذنوب من امتی ۔میری شفاعت میرے گنہگار امتیوں کے لیے ہے۔ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی :واِن زَنٰی واِن سَرَقَ اگرچہ زانی ہو، اگرچہ چور ہو) فرمایا :وان زنٰی وان سرق علٰی رغم انفِ ابی الدرداء ۲ ؎۔( اگرچہ زانی ہو اگرچہ چور ہو برخلاف خواہش ابودرداء کے)
( ۲ ؎تاریخ بغداد ترجمہ محمد بن ابراہیم الغازی ابن البصری دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۴۱۶)
Hadith 9 : Abu Bak'r Ahmad bin Baghdadi narrate from Abu Dardah, The Prophet said : My intercession is for the sinners of my ummah. Abu Dardah asked: Even if he has fornicated and even if he is a thief? He replied: Yes, even if he fornicated and even if he is thief.
حدیث ۱۰ و ۱۱ : طبرانی و بیہقی حضرت بریدہ اور طبرانی معجم اوسط میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : ان اشفع یوم القیمٰۃ لِاکثرمما علٰی وجہ الارض من شجروحجر ومدر ۱ ؎۔یعنی رُوئے زمین پر جتنے پیڑ، پتھر، ڈھیلے ہیں میں قیامت یں ان سب سے زیادہ آدمیوں کی شفاعت فرماؤں گا۔
Hadith 10-11: Tibrani and Bayhaqi narrate from Buraidah
Tibrani in Moa'jjam Ausat narrate from Anas
The prophet said : I will intercede on the day of judgement for the people more than trees, stones and mud on the face of earth.
(۱مسند احمد بن حنبل عن بریدہ الاسلمی المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۳۴۷)
(المعجم الاوسط حدیث ۵۳۵۶ مکتبۃ المعارف ریاض ۶ /۱۷۲)
(کنزالعمال حدیث ۳۹۰۶۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۴ /۳۹۹)
حدیث ۱۲ : بخاری، مسلم ، حاکم، بیہقی حضرت ابوہریرہ رضی ا للہ تعالٰی عنہ سے راوی ،واللفظ لھٰذین ( اور لفظ حاکم و بیہقی کے ہیں۔ت) حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :شفاعتی لمن شہدان لا اٰلہ الا اﷲ مخلصاً یصدق قلبہ لسانہ ۲ ؎۔میری شفاعت ہر کلمہ گو کے لیے ہے جو سچے دل سے کلمہ پڑھے کہ زبان کی تصدیق دل کرتا ہو۔
Hadith 12 : Bukari, Muslim, Hakim, Bayhaqi narrate from Abu Hurairah (words are of Hakim and Bayhaqi), The prophet said: My intercession is for those who testified there is no god but Allah, sincerely by heart and truthfully.
( ۲ ؎المستدرک للحاکم کتاب الایمان باب شفاعتی لمن یشھد الخ دارالفکر بیروت ۱ /۷۰)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی موسی الاشعری المکتب الاسلامی بیروت ۴/۴۰۴ و ۴۱۵)
(کنزالعمال حدیث ۳۹۰۷۹ و ۳۹۰۸۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۳۶۸ و ۳۶۹)
(مجمع الزوائد کتاب البعث باب ما جآء فی الشفاعۃ دارالکتاب بیروت ۱۰/ ۳۶۸ و۳۶۹)
حدیث ۱۳ : احمد ، طبرانی وبزار حضرت معاذ بن جبل و حضرت ابو موسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :انہا اوسع لھم وھی لمن مات ولایشرک باﷲ شیئا ۳ ؎۔شفاعت میں امت کے لیے زیادہ وسعت ہے کہ وہ ہر شخص کے واسطے ہے جو اﷲ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے یعنی جس کا خاتمہ ایمان پر ہو۔
Hadith 13: Ahmad, Tibrani and Bazzar narrate from Muaz bin Jabal and Abu Musa Ash'ari, The prophet said: In intercession there is extention , that is, it is for everyone who doesnt join anyone with Allah, that is, who died muslim.
حدیث ۱۴ : طبرانی معجم اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :اٰتی جہنم فاضرب بابہا فیفتح لی فادخلھا فاحمداﷲ محامد ما حمدہ احد قبلی مثلہا ولا یحمداحد بعدی ثم اخرج منھا من قال لا الہ الا اللہ ۱ ملخصاً ۔میں جہنم کا دروازہ کھلوا کر تشریف لے جاؤں گا وہاں خدا کی تعریف کروں گا، ایسی نہ مجھ سے پہلے کسی نے کیں نہ میرے بعد کوئی کرے، پھر دوزخ سے ہر اس شخص کو نکال لوں گا جس نے خالص دل سے لا الٰہ الا اﷲ کہا۔
Hadith 14: Tibrani in Moajam Ausat narrate from Abu Huraira, The Prophet said: I will go to hell and knock on its door. It will be opened for me and I will enter in it and would praise the lord, the praise which no one did before nor anyone would do after me. Then I will take out all the people who had said No god but Allah sincerely by heart.
( ۱ ؎المعجم الاوسط حدیث ۳۸۵۷ مکتبہ المعارف ریاض ۴ /۵۰۳)
حدیث ۱۵ : حاکم بافادہ تصحیح اور طبرانی و بیہقی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :یوضع للانبیاء منابر من ذھب فیجلسون علیھا ویبقٰی منبری لا اجلس علیہ او لا اقعد علیہ قائما بین یدی ربی مخافۃ ان یبعث بی الی الجنۃِ ویبقی اُمّتی بعدی فاقول یارب امتی امتی فیقول اﷲ عزوجل یا محمد ما ترید ان اصنع بامتک فاقول یا رب عجل حسابھم فما ازال اشفع حتی اعطٰی صکاکاً برجال قد بعث بھم الی النار حتی اَنّ مالکاً خازن النار فیقول یا محمد ما ترکت لغضب ربک فی امتک من نقمۃ ۲ ؎۔انبیا کے لیے سونے کے منبر بچھائیں گے وہ ان پر بیٹھیں گے، اور میرا منبر باقی رہے گا کہ میں اس پر جلوس نہ فرماؤں گا بلکہ اپنے رب کے حضور سر وقد کھڑا رہون گا اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو مجھے جنت میں بھیج دے اور میری امت میرے بعد رہ جائے پھر عرض کروں گا اے رب میرے ! میری امت ، میری امت، اﷲ تعالٰی فرمائے گا اے محمد، تیری کیا مرضی ہے میں تیری امت کے ساتھ کیا کروں؟ عرض کروں گا اے رب میرے ان کا حساب جلد فرمادے، پس میں شفاعت کرتا رہوں گا۔ یہاں تک کہ مجھے ان کی رہائی کی چھٹیاں ملیں گی جنہیں دوزخ بھیج چکے تھے یہاں تک کہ مالک داروغہ دوزخ عرض کرے گا اے محمد ! آپ نے اپنی امت میں رب کا غضب نام کو نہ چھوڑا۔
Hadith 15: Hakim narrate from sound narration, Tibrani and Bayhaqi narrate from Abdullah bin Abbas, The prophet said: Pulpits of gold will be place for prophets and they will sit on them. My pulpit will remain free and I would not sit on it instead I will be standing in the court of Allah, fearing may he send me to Jannah and my ummah stay back. I will say : O my lord! My ummah! my ummah! Allah, the exalted will say: O Muhammad! What is your wish? What should I do with your ummah? I will say: O my lord! do their judgment early so that I intercede for them, I would even free the men who were sent to hell until the guardian of hell would say: O muhammed! you did not leave anyone from your ummah who would face anger of the lord.
( ۲ ؎المستدرک للحاکم کتاب الایمان باب الانبیاء منابرمن ذہب دارالفکر بیروت ۱ /۶۵و ۶۶)
(المعجم الاوسط حدیث ۲۹۵۸ مکتبۃ المعارف ریاض ۳ /۴۴۶ و ۴۴۷)
( الترغیب والترہیب کتاب البعث فصل فی الشفاعۃ مصطفٰی البابی مصر ۴ /۴۴۶)
اللھم صلی وبارک علیہ والحمد اﷲ رب العلمین ۔اے اﷲ ! درود و برکت نازل فرما ان پر ، اور تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۱۶ تا ۲۱ : بخاری و مسلم و نسائی حضرت جابر بن عبداﷲ اور احمد بسندِ حسن اور بخاری تاریخ میں اور بزار اور طبرانی و بیہقی و ابونعیم حضرت عبداﷲ بن عباس، اور احمد بسندِ حسن و بزار بسندِ جیدّ و دارمی و ابن ابی شیبہ و ابویعلٰی وابونعیم وبیہقی حضرت ابوذر، اور طبرانی معجم اوسط میں بسند حضرت ابوسعید خدری، اور کبیر میں حضرت سائب بن زید، اور احمد باسنادِ حسن اور ابن ابی شیبہ و طبرانی حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی : واللفظ لجابر قال قال رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اُوعطیت ما لم یعط احد قبلی الٰی قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم واعطیت الشفاعۃ۱ ؎۔
Hadith 14-21
اور لفظ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے وہ کچھ عطا ہوا جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دیا گیا"۔
And words of Jabir are that the Prophet said : I have been given which was not given to anyone before me.
( ۱ ؎ صحیح بخاری کتاب التیم وقولہ تعالٰی فلم تجدواماءً قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۸)
(صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب قولہ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جعلت لی الارض مسجداً کراچی ۱ /۶۲)
(صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلوۃقدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۹)
(سنن النسائی کتاب الغسل والتمیم باب التمیم بالصعید نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۷۴)
(مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اللہ عنہالمکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۰۱)
(المعجم الکبیرعن ابن عباس رضی اللہ عنہالمکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۰۱)
(المعجم الکبیر عن ابن عباس رضی اللہ عنہ حدیث ۱۱۰۸۵ المکتب الاسلامی بیروت ۱۱ /۷۳)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۶۲)
(الترغیب و الترھیب بحوالہ البزار فصل فی الشفاعۃ مصطفٰے البابی مصر۴ /۴۳۳)
(المعجم الاوسط حدیث ۷۴۳۵ مکتبۃ المعارف ریاض۸ /۲۱۲)
(المعجم الکبیر عن سائب بن زید حدیث ۶۶۷۳ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۷ /۱۵۵)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی موسٰی المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۴۰۴)
ان چھیوں حدیثوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں میں شفیع مقرر کردیا گیا اور شفاعت خاص مجھی کو عطا ہوگی میرے سوا کسی نبی کو یہ منصب نہ ملا۔
In these 6 ahadith it is told that the Prophet said : I have been appointed the intercessor and special intercession will be given to me and no prophet other than me got this status.
حدیث ۲۲ و ۲۳: ابن عباس وابوسعید وا بو موسٰی سے انہیں حدیثوں میں وہ مضمون بھی ہے جو احمد و بخاری و مسلم نے انس اور شیخین نے ابوہریرہ (رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین) سے روایت کیا کہ حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :ان لکل نبی دعوۃ قددعا بہا فی امتہ واستجیب لہ۱؎۔ وھذااللفظ الانس ولفظ ابی سعید لیس من نبی الا وقد اُعطی دعوۃ فتعجّلہا۲ ؎۔ (ولفظ ابن عباس) لم یبق نبی الا اُعطی سؤلہ۳ ؎۔ رجعنا الٰی لفظ انس والفاظ الباقین کمثلہ معنیً قال وانی اختبات دعوتی شفاعۃ لِاُمتی یوم القٰیمۃ ۴ ؎۔(زاد موسٰی) جعلتہا لمن مات من امتی لایشرک باﷲ شیئا ۵ ؎۔
Hadith 22-23 : The ahadith narrated by Ibn Abbas, Abu Sa'eed and Abu Moosa which has the content which is narrated by Ahmad, Bukhari, Muslim on the authority of Shaykhain and Abu Huraira that : The Prophet said :
ہر نبی کے لیے ایک خاص دعا ہے جو وہ اپنی امت کے بارے میں کرچکا ہے اور وہ قبول ہوئی ہے، یہ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لفظ ہیں، اور حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لفظ یوں ہیں کہ نہیں ہے کوئی نبی مگر یہ کہ اُسے ایک خاص دعا عطا ہوئی جسے اس نے دنیا میں مانگ لیا۔ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے لفظ ہیں کہ کوئی نبی نہ بچا جس کو خاص دُعا عطا نہ ہوئی ہو، ہم حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے الفاظ کی طرف رجوع کرتے ہیں، باقی راویوں کے الفاظ معنی کے اعتبار سے اُن ہی کی مثل ہیں۔ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ۔ میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے بچا رکھا ہے۔" ابو موسٰی نے اضافہ کیا کہ میں ہر اُس امتی کے لیے شفاعت کروں گا جو اس حال پر مرا کہ اﷲ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا۔(ت)
There is a special supplication for each Prophet, which he has done for his ummah and that has been accepted. These are the words of Anas.
The words of Abu Sa'eed are : There no prophet but he is given a special supplication, which he requested in this world itself.
The words of Ibn Abbas are : No Prophet is left, who has not been given a special supplication.
We get back to the words of Anas, words of other narraters are same as his, per meaning. The Prophet said : I have saved my supplication for the day of judgement, for the intercession of my ummah.
Abu Moosa added : I will intercede for my every ummati who died in the state that he didnt join anyone with Almighty Allah.
یعنی انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کی اگرچہ ہزاروں دُعائیں قبول ہوتی ہیں مگر ایک دُعا انہیں خاص جناب باری تبارک و تعالٰی سے ملتی ہے کہ جو چاہے مانگ لو بے شک دیا جائے گا تمام انبیاء آدم سے عیسٰی تک ( علیہم الصلوۃ والسلام) سب اپنی اپنی وہ دُعا دنیا میں کرچکے اور میں نے آخرت کے لیے اٹھا رکھی، وہ میری شفاعت ہے میری امت کے لیے قیامت کے دن، میں نے اسے اپنی ساری امت کے لیے رکھا ہے جو ایمان پر دنیا سے اُٹھی۔
It means, even though thousands supplications of Prophet is accepted but one special supplication is given to them from the court of almighty Allah, ask whatever you want and it will indeed be given. All the prophets from Aadam to Isaa have done that special supllication in this world but I have saved for the next world, that is my intercession for my ummah on the day of judgement. I have saved it for my whole ummah who left the world with faith.
( ۱ ؎ صحیح بخاری کتاب الدعوات باب قول اﷲ تعالٰی ادعونی استجب لکم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۳۲)
( صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۳)
(مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰۸ )
( ۲ ؎ مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخذری رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰)
( ۳ ؎السنن الکبری کتاب الصلوۃ باب اینما ادرکتک الصلوۃ فصل الخ دارصادر بیروت ۲ /۴۳۳)
( ۴ ؎ صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۳)
(مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰۸)
( ۵ ؎ مسند احمد بن حنبل عن ابی موسٰی الاشعری رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۴۱۶)
اللّٰھم ارزقنا بجاھہ عندک اٰمین !اے اﷲ ! ہمیں ان کی اس وجاہت کے صدقے میں عطا فرما جو اُن کو تیری بارگاہ میں حاصل ہے۔(ت)
اﷲ اکبر ! اے گنہگار ان اُمّت! کیا تم نے اپنے مالک و مولٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی یہ کمال رأفت و رحمت اپنے حال پر نہ دیکھی کہ بارگاہِ الہٰی عزوجلالہ سے تین سوال حضور کو ملے کہ جو چاہو مانگ لو عطا ہوگا۔ حضور نے ان میں کوئی سوال اپنی ذات پاک کے لیے نہ رکھا، سب تمہارے ہی کام میں صرف فرمادیئے دو سوال دنیا میں کیے وہ بھی تمہارے ہی واسطے ، تیسرا آخرت کو اٹھا رکھا، وہ تمہاری اس عظیم حاجت کے واسطے جب اس مہربان مولٰی رؤف و رحیم آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سوا کوئی کام آنے والا، بگڑی بنانے والا نہ ہوگا۔( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) حق فرما یا حضرت حق عزوجل نے :عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم ۱ ؎۔اُن پر تمہارا مشقّت میں پڑنا گراں ہے، تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر کمال مہربان ۔(ت)
Allahu Akbar! O sinners, have not seen the mercy of your leader & saviour on yourselves? Three wishes from the court of Allah was granted to the Prophet that seek whatever you want and it will be fulfilled. The Prophet didnt ask even a single wish for himself, but wished all for you. The prophet seeked 2 wishes in this world and that too for you, left third one for the day of judgement, for your extreme need when other than merciful and compassionate leader will be of any help. Allah, the exalted says : your falling into hardship aggrieves him, most concerned for your well being, for the Muslims most compassionate, most merciful.(9:128)
(۱ القرآن الکریم ۹/ ۱۲۸)
واﷲ العظیم !قسم اس کی جس نے انہیں آپ پر مہربان کیا ہر گز ہر گز کوئی ماں اپنے عزیز پیارے اکلوتے بیٹے پر زنہار اتنی مہربان نہیں جس قدر وہ اپنے ایک امتی پر مہربان ہیں۔(صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم)الہٰی ! تو ہمارا عجزو ضعف اور اُن کے حقوقِ عظیمہ کی عظمت جانتا ہے۔ اے قادر ! اے واجد!ہماری طرف سے اُن پر اور اُن کی آل پر وہ برکت والی درودیں نازل فرما جو ان کے حقوق کو وافی ہوں اور ان کی رحمتوں کو مکافی۔
I swear by the Allah, the greatest. I swear by the one who made him compassionate on us. A mother will never ever be compassionate on her only beloved child, more than the compassion the prophet has for his single follower. O lord, send upon him and on his family, the blessings which suffice his rights and his mercy.
اللھم صلّ وسلم وبارک علیہ وعلٰی الہ وصحبہ قدر رأفتہ و رحمۃ بامتہ وقدرأفتک ورحمتک بہ اٰمین اٰمین الہ الحق امین۔اے اﷲ ! درود و سلام اور برکت نازل فرما آپ پر، آپ کی آل پر اور آپ کے اصحاب پر جتنا کہ وہ اپنی اُمت پر مہربان ہیں اور جس قدر تو ان پر مہربان ہے۔ اے معبود برحق ! ہماری دُعا قبول فرما۔ت
O Allah, send peace and blessings on him,his family and companions like
سبحن اﷲ !امتیوں نے ان کی رحمتوں کا یہ معاوضہ رکھا کہ کوئی افضلیت میں تشکیلیں نکالتا ہے۔ کوئی ان کی تعریف اپنی سی جانتا ہے، کوئی ان کی تعظیم پر بگڑ کر کرّاتاہے۔ افعالِ محبت کا بدعت نام اجلال وادب پر شرک کے احکام،
His followers
انّا ﷲ وانّا الیہ راجعون ، وسیعلم الذین ظلمواایّ منقلب ینقلبون ، ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔بے شک ہم اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں اور ہم کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، عنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹتے ہیں، اور اﷲ بلند و عظیم کی توفیق کے بغیر نہ تو گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت ۔(ت)
حدیث ۲۴ : صحیح مسلم میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اللہ تعالٰی نے مجھے تین سوال عطا فرمائے، میں نے دو بار تو دنیامیں عرض کرلی :اللّٰھم اغفرلامّتی اللھم اغفرلامتی الہی !میری اُمت کی مغفرت فرما، الہٰی میری اُمت کی مغفرت فرما۔الہٰی ! میری اُمت کی مغفرت فرما۔ "
واخّرت الثالثۃ لیوم یرغب الیّ فیہ الخلق حتی ابراہیم۱ ؎۔اور تیسری عرض اس دن کے لیے اٹھا رکھی جس میں مخلوقِ الہٰی میری طرف نیاز مند ہوگی یہاں تک کہ ابراہیم خلیل اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام۔
( ۱ ؎ مسند احمد بن حنبل عن ابی بن کعب المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۲۷)
(صحیح مسلم کتاب فضائل القرآن باب بیان ان القرآن انزل علٰی سبعۃ حرف قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۷۳)
وصل وسلم بارک علیہ والحمد ﷲ رب العلمین۔اور درود و سلام و برکت نازل فرما اُن پر، اور تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۲۵: بیہقی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے شبِ اسرٰی اپنے رب سے عرض کی۔ تُو نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو یہ یہ فضائل بخشے، رب عزمجدہ، نے فرمایا : اعطیتک خیراً من ذلک (الٰی قولہ) خبأت شفاعتک و لم اخبأھالنبی غیرک ۲ ؎۔میں نے تجھے جو عطا فرمایا وہ ان سب سے بہتر ہے، میں نے تیرے لیے شفاعت چھپا رکھی اور تیرے سوا دوسرے کو نہ دی۔
Hadith 25: Bayhaqi narrates from Abu Hura'ira, The Prophet said to his lord on the night Me'raj : You have bestowed Prophets these virtues. Almighty said : What I have bestowed you is better than all of them, I have hidden intercession for you and didn't give it to anyone other than you.
( ۲ ؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثالث الفصل الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۳۴)
حدیث ۲۶ : ابن ابی شیبہ و ترمذی بافادہ تحسین وتصحیح اور ابن ماجہ و حاکم بحکم تصحیح حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :اذاکان یوم القیمۃ کنت امام النبیین وخطیبھم وصاحب شفاعتھم غیر فخر ۱ ؎۔قیامت کے دن میں انبیاء کا پیشوا اور ان کا خطیب اور ان کا شفاعت والا ہوں اور یہ کچھ فخر کی راہ سے نہیں فرماتا۔
Hadith 26:Ibn Abi She'bah and Tirmzi by sound and correct narrations and Ibn Majah & Hakim by sahih narration, narrate from Abi bin Ka'ab, The Prophet said: On the day of Judgement I will be the leader of Prophets, I will be their speaker and intercessor and I do not boast.
( ۱ ؎جامع الترمذی ابواب المناقب باب منہامین کمپنی دہلی ۲ /۲۰۱)
(سنن ابن ماجہ ابواب الزہد باب ذکرالشفاعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۳۰)
(المستدرک للحاکم کتاب الایمان باب اذاکان یوم القیمۃ الخ دارالفکربیروت ۱/ ۷۱)
حدیث ۲۷ تا ۴۰ : ابن منیع، حضرت زید بن ارقم وغیرہ چودہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی، حضرت شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : شفاعتی یوم القٰیمۃ حق فمن لم یؤمن بہا لم یکن من اھلہا ۲ ؎۔میری شفاعت روزِ قیامت حق ہے جو اس پر ایمان نہ لائے گا اس کے قابل نہ ہوگا۔
Hadith 27-40:
Ibn Mu'nee narrate from Zaid bin Arqam and 14 other companions, The Prophet said : My intercession the day of judgement is true, one who doesnt believe it woulnt be worthy of it.
( ۲ ؎کنزالعمال بحوالہ ابن منیع عن زید بن ارقم الخ حدیث ۳۹۰۵۹ مؤستہ الرسالہ بیروت ۱۴ /۳۹۹)
منکرمسکین اس حدیثِ متواتر کو دیکھے اور اپنی جان پر رحم کرکے شفاعتِ مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ایمان
لائے۔
Poor rejectors look at this mutawatir (consecutive) hadith and have mercy on his soul by beleiving in the intercession of the Prophet.
"اللّٰھم انک تعلم ھدیت فٰامنّا بشفاعۃ حبیبک محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فاجعلنا من اھلہا فی الدنیا والاخرۃ یا اھل التقوٰی واھل المغفرۃ واجعل اشرف صلواتک وانمی برکاتک وازکٰی تحیاتک علٰی ھذاالحبیب المجتبٰی والشفیع المرتضٰی وعلٰی اٰلہ وصحبہ دائماً ابداً امین یا ارحم الرحمین ، والحمدﷲ رب العلمین۔
اے اﷲ ! تُو جانتا ہے، بے شک تُو نے ہدایت عطا فرمائی ہے، تو ہم تیرے حبیب محمد مصطفٰے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شفاعت پر ایمان لائے ہیں۔
اے اﷲ! تو میں دُنیا وآخرت میں لائق شفاعت بنادے۔اے تقوٰی ومغفرت والے ! اپنا افضل درود ، اکثر برکات اور پاکیزہ تحیات بھیج اس منتخب محبوب پر جس کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے اور آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے، اے بہترین رحم فرمانے والے ! ہماری دُعا کو قبول فرما۔ اور تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
O Allah, Indeed you know that you guided me, so we believed in the intercession of your beloved.
O Allah, make me worthy of intercession in this world and the next. O the righteous and forgiving send your greatest peace, abundance blessings and pure greetings on the selected beloved whose intercession is hoped for and on his family and his companions forever and ever.
O the most merciful, accept our prayers.
All praise belong to Allah who us creator of whole universe.
اس آیت میں مسلمانوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ گناہ کرکے اس نبی کی سرکار میں حاضر ہو اور اُس سے درخواستِ شفاعت کرو، محبوب تمہاری شفاعت فرمائے گا۔ تو ہم یقیناً تمہارے گناہ بخش دیں گے۔
In this verse Allah tell Muslims that after sinning, present yourself at the court of Prophet and request him for intercession. Beloved will intercede for you then I would surely forgive your sins.
آیتِ خمسہ ۵: قال اﷲ تعالٰی (اﷲ تعالٰی نے فرمایا) :واذاقیل لہم تعالوا یستغفر لکم رسول اﷲ لوّوا رء وسھم ۱ ؎۔جب ان منافقوں سے کہا جائے کہ آؤ رسول اﷲ تمہاری مغفرت مانگیں تو اپنے سر پھیر لیتے ہیں۔
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۶۳ /۵)4th verse: Allah, the exalted says:And when it is said to them, “Come! Allah’s Noble Messenger may seek forgiveness for you” - they turn their heads away, and you will see them turning away in pride.(63:5)
اس آیت میں منافقوں کا حال بد مآل ارشاد ہوا کہ وہ حضور شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے شفاعت نہیں چاہتے، پھر جو آج نہیں چاہتے وہ کل نہ پائیں گے۔ اﷲ دنیا و آخرت میں ان کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے۔ ؎
حشر میں ہم بھی سیر دیکھیں گے منکر آج ان سے التجا نہ کرے
وصلی اﷲ تعالٰی علٰی شفیع المذنبین واٰلہ وصحبہ وحزبہ اجمعین ۔اﷲ تعالٰی درودنازل فرمائے گنہگاروں کی شفاعت فرمانے والے پر اور ان کی آل، اصحاب اور تمام امت پر۔(ت)
In this verse, the bad condition of hypocrites is told that they dont want intercession of the Prophet. So the one who doesnt want it today, wont get it tomorrow. May Allah benefit us from his intercession in this world and the next.
May Allah send blessings on the intercessor of sinners, on his family, companions and whole ummah.
الاحادیث
Ahadith (Traditions)
شفاعت کُبرٰی کی حدیثیں جن میں صاف صریح ارشاد ہوا کہ عرصاتِ محشر میں وہ طویل دن ہوگا کہ کاٹے نہ کٹے اور سروں پر آفتاب اور دوزخ نزدیک، اُس دن سورج میں دس برس کامل کی گرمی جمع کریں گے اور سروں سے کچھ ہی فاصلہ پر لارکھیں گے، پیاس کی وہ شدت کہ خدا نہ دکھائے، گرمی وہ قیامت کہ اﷲ بچائے، بانسوں پسینہ زمین میں جذب ہو کر اوپر چڑھے گا، یہاں تک کہ گلے گلے سے بھی اونچے ہوگا، جہاز چھوڑیں تو بہنے لگیں ، لوگ اس میں غوطے کھائیں گے ، گھبرا گھبرا کر دل حلق تک آجائیں گے۔
The traditions of Shafa'ate Kubr'a (The greatest intercession) in which it is clearly mentioned that, on the day of judgement, the day will be so long that it wouldn't pass, there will sun directly over head and hell will be near. That day sun will be 10 years hotter and will be placed near to head. The intensity of thirst would be such that, may Allah not show us that. The exterem heatness, that Allah protect. The sweat after being absorbed by earth would rise up, as high as level of neck and even higher than that even if a ship is placed, it would sail over it. People will dive in that. The extreme anxiety will cause the heart to come to throat.
لوگ ان عظیم آفتوں میں جان سے تنگ آکر شفیع کی تلاش میں جا بجا پھریں گے، آدم و نوح، خلیل وکلیم و مسیح علیہم الصلوۃ والتسلیم کے پاس حاضر ہو کر جواب صاف سنیں گے ، سب انبیاء فرمائیں گے ہمارا یہ مرتبہ نہیں ہم اس لائق نہیں ہم سے یہ کام نہ نکلے گا، نفسی نفسی ، تم اور کسی کے پاس جاؤ، یہاں تک کہ سب کے بعد حضور پُرنور خاتم النبیین ، سیدّالاولین والآخرین، شفیع المذنبین ، رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم" اَنالَہا انالہَا "۲فرمائیں گے یعنی میں ہوں شفاعت کے لیے ، میں ہوں شفاعت کے لیے۔
Upset by these extreme calamities, people wander everywhere to search for an intercessor and helper. They would go to Aadam, Nooh, Khaleel (Ibraheem), Kaleem(Moosa) and Maseeh (Isaa) and would not get help. All prophets will say : This is not our status nor we are worthy to do it. I'm concered about myself, you go to someone else until finally they would reach in the service of the Prophet. The Prophet would say : I'm for you, I'm for you!.
( ۲ ؎ البدایۃ والنہایۃ ذکر ثناء اﷲ و رسولہ الکریم علی عبدوخلیلہ ابراہیم مکتبہ المعارف بیروت ۱ /۱۷۱)
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخقدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۰)
پھر اپنے رب کریم جلالہ، کی بارگاہ میں حاضر ہو کر سجدہ کریں گے ان کا رب تبارک و تعالٰی ارشاد فرمائے گا :یامحمد ارفع رأسَک وقل تُسمع وسل تعطہ واشفع تشفع ۱ ؎۔اے محمد !اپنا سر اٹھاؤ اور عرض کرو تمہاری بات سنی جائے گی اور مانگو کہ تمہیں عطا ہوگا اورشفاعت کرو کہ تمہاری شفاعت قبول ہے۔
They he would come to the court of his glorious and merciful lord and prostrate. His Lord would say : O Muhammad, raise your head and request, you will be heard,ask so that your are given and interceded as your intercession will be accepted.
( ۱ ؎ صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب قول اﷲ تعالٰی ولقدارسلنا نوحاً الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۷۰)
(صحیح البخاری کتاب الرقاق باب صفۃ الجنۃ والنار قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۷۱)
(صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی لما خلقت بیدی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۰۲)
(صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی وجوہ یومئذ ناضرۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۰۸)
(صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول الرب یوم القیمۃ الانبیاء وغیرہم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۱۸)
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۸ تا ۱۱۱)
یہی مقامِ محمود ہوگا جہاں تمام اولین و آخرین میں حضور کی تعریف و حمد و ثنا کا غُل پڑ جائے گا اور موافق و مخالف سب پر کھل جائے گا۔ بارگاہِ الہٰی میں جو وجاہت ہمارے آقا کی ہے کسی کی نہیں اور مالک عظیم جل جلالہ کے یہاں جو عظمت ہمارے مولےٰ کے لیے ہے کسی کے لیے نہیں والحمدﷲ رب العلمین۔ (اور تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔ت) اسی لیے اﷲ تعالٰی اپنی حکمتِ کاملہ کے مطابق لوگوں کے دلوں میں ڈالے گا کہ پہلے اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے پاس جائیں اور وہاں سے محروم پھر کر ان کی خدمت میں حاضر آئیں تاکہ سب جان لیں کہ منصب شفاعت اسی سرکار کا خاصہ ہے دوسرے کی مجال نہیں کہ اس کا دروازہ کھول سکے،والحمدﷲ رب العلمین ( اور تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔ت)
This will be the station of praise and glory, where his praise and glory will be known and all the supporters and opponents will know about his status. No one has the honor which our master has in the court of almighty. No one has the greatness our chief has in the court of almighty.
Hence, as per his wisdom, Allah would let people go to all other prophets and after returning depressed , present at his court so everybody come to know that intercession is only specific to him and no one else is permitted to open its door.
یہ حدیثیں صحیح بخاری و صحیح مسلم تمام کتابوں میں مذکور اور اہلِ اسلام میں معروف و مشہور ہیں، ذکر کی حاجت نہیں کہ بہت طویل ہیں۔ شک لانے والا اگر دو حرف بھی پڑھا ہو تو مشکوۃ شریف کا اردو میں ترجمہ منگاکر دیکھ لے یا کسی مسلمان سے کہے کہ پڑھ کر سُنا دے۔ اور انہیں حدیثوں کے آخر میں یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ شفاعت کرنے کے بعد حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بخشش گنہگارانِ کے لیے بار بار شفاعت فرمائیں گے اور ہر دفعہ اﷲ تعالٰی وہی کلمات فرمائے گا اور حضور ہر مرتبہ بے شمار بندگانِ خدا کو نجات بخشیں گے۔ بار بار شفاعت فرمائیں گے اور ہر دفعہ اﷲ تعالٰی وہی کلمات فرمائے گا اور حضور ہر مرتبہ بے شمار بندگانِ خدا کو نجات بخشیں گے۔
These traditions are mentioned in Sahih Bukhari, Sahih Muslim and all other books. These are famous and well known by muslims. There is no need of mentioning it here as its very lengthy. The person who has doubt in it, if he is literate, let him look into the translation of Mishkat Shareef or else ask any muslim to read it for him.
It is also mentioned at the end of these traditions that, after intercession the Prophet would intercede for sinners again and again and each time almighty Allah will say the same statement. The Prophet would save innumerous people each time. He will intercede repeatedly and each time the lord would ask him again and the Prophet would save innumerous sinners each time.
میں ان مشہور حدیثون کے سوا ایک اربعین یعنی چالیس حدیثیں اور لکھتا ہوں جو گوش عوام تک کم پہنچی ہوں ، جن سے مسلمانوں کا ایمان ترقی پائے، منکرِ کا دل آتشِ غیظ میں جل جائے، بالخصوص جن سے اس ناپاک تحریف کا رَد شریف ہو جو بعض بددینوں ، خدا ناترسوں، ناحق کوشوں، باطل کیشوں نے معنی شفاعت میں کیں اور انکارِ شفاعت کے چہرہ نجس چھپانے کو ایک جھوٹی صورت نام کی شفاعت دل سے گھڑی ۔
Other than these famous traditions I'm writing 40 more traditions which people wouldnt have heard much, by which the faith of muslims would increase, heart of rejectors would burn in anger, especially of those who get the answer impure distortion which is done by some
ان حدیثوں سے واضح ہوگا یہ حدیثیں ظاہر کریں گی کہ ہمیں خدا اور رسول نے کان کھول کر شفیع کا پیارا نام بتادیا اور صاف فرمایا کہ وہ محمد رسول اﷲ ہیں(صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) نہ یہ کہ بات گول رکھی ہو جیسے ایک بدبخت کہتا ہے کہ اسی کے اختیار پر چھوڑ دیجئے جس کو وہ چاہے ہمارا شفیع کردے۔
It will be clear by these traditions and these traditions will show that Allah and Prophet has told us about the good name of intercessor and they clearly told us that he is Muhammad, the Prophet of Allah. Its not that statements are not clear, just like one wretched said, leave at the discretion of Allah, let him make our intercessor whomsoever he wish.
یہ حدیثیں مژدہ جانفزا دیں گی کہ حضور کی شفاعت نہ اس کے لیے ہے جس سے اتفاقاً گناہ ہوگیا ہو اور وہ اس پر ہر وقت نادم و پریشان و ترساں ولرزاں ہے جس طرح ایک دُزد باطن کہتا ہے کہ چور پر تو چوری ثابت ہوگئی مگر وہ ہمیشہ کا چور نہیں اور چوری کو اس نے کچھ اپنا پیشہ نہیں ٹھہرایا مگر نفس کی شامت سے قصور ہوگیا سو اس پر شرمندہ ہے اور رات دن ڈرتا ہے۔ نہیں نہیں ان کے رب کی قسم جس نے انہیں شفیع المذنبین کیا۔ اُن کی شفاعت ہم جیسے روسیاہوں ، پُرگناہوں، سیاہ کاروں ستم گاروں کے لیے ہے جن کا بال بال گناہ میں بندھا ہے جن کے نام سے گناہ بھی تنگ وعار رکھتا ہے۔ ع
These tradition will revive glad tidings that the intercession of the Prophet is not only for the only who committed sin by mistake and he remains upset,worried, sorry and trembled all the time like a thief said that theft is proved for a thief but he doent remain thief forever and he hasnt make theft as his profession ,but due to self woe he committed the crime and hence he is sorry for that and he keeps fearing day and night.
No, swear by his lord, who made him the intercessor of sinners that his intercession is for sinners like us whose every hair is tied with sin, by whose name even sin shy.
ترسم آلودہ شود دامنِ عصیاں از من
( میں ڈرتا ہوں کہ گناہوں کا دامن میری وجہ سے آلودہ ہوجائے گا۔ت)
وحسبنا اﷲ تعالٰی و نعم الوکیل و الصلوۃ والسلام علی الشفیع الجمیل وعلٰی اٰلہ وصحبہ بالوف التبجیل والحمد ﷲ ربّ العلمین ربّ العلمین ۔
اور اﷲ تعالٰی ہمارے لیے کافی ہے اور کیا ہی خوب کار ساز ہے، اور درود و سلام نازل ہوجمال والے شفیع پر اور ان کے آل و اصحاب پر ہزاروں تعظیم و تکریم کے ساتھ، اور تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۱ و۲: امام احمد بسندِ صحیح اپنی مسند میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اور ابن ماجہ حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : خُیِّرت بین الشفاعۃ وبین ان یدخل نصف امتی الجنۃ فاخترت الشفاعۃ لانھا اعم واکفٰی ترونھا للمتقین لا ولکنھا للمذنبین الخطائین المتلوثین ۔۱
اللہ تعالٰی نے مجھے اختیار دیا کہ یا تو شفاعت لو یا یہ کہ تمہاری آدمی امت جنت میں جائے میں نے شفاعت لی کہ وہ زیادہ تمام اور زیادہ کام آنے والی ہے، کیا تم یہ سمجھ لیے ہو کہ میری شفاعت پاکیزہ مسلمانوں کے لیے ہے؟ نہیں بلکہ وہ ان گنہگاروں کے واسطے ہے جو گناہوں میں آلودہ اور سخت خطا کار ہیں۔
( ۱ ؎سنن ابن ماجہ ابواب الزہد باب ذکر الشفاعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۹)
(مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن عمرالمکتب الاسلامی بیروت ۲ /۷۵)
اللّٰھم صل وسلم وبارک علیہ والحمد اﷲ رب العٰلمین ۔
اے اللہ ! درود و سلام اور برکت نازل فرما ان پر، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کاپروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۳: ابن عدی حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :شفاعتی للہالکین من اُمتی ۲ ؎۔میری شفاعت میرے ان امتیوں کے لیے ہے جنہیں گناہوں نے ہلاک کر ڈالا۔حق ہے اے شفیع میرے، میں قربان تیرے،صلی اللہ علیک۔
( ۲ ؎الکامل لابن عدی ترجمہ عمرو بن المحرم دارالفکر بیروت ۵ /۱۸۰۱)
(کنزالعمال حدیث ۳۹۰۷۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۴ /۴۰۱)
Hadith 3 : Ibn A'di narrate from mother of believers, Umme Salmah, The prophet said : My intercession is for those of my people who are perished by their sins.
حدیث ۴:۸ : حضرت ابوداؤد و ترمذی و ابن حبان و حاکم و بیہقی بافادہ صحیح حضرت انس بن مالک اور ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان، و حاکم حضرت جابر بن عبداللہ اور طبرانی معجم کبیر میں حضرت عبداللہ بن عباس اور خطیبِ بغدادی حضرت عبداﷲ ابن عمر فاروق و حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :شفاعتی یوم القٰیمۃ لاھل الکبائر من امّتی ۱ ؎۔میری شفاعت میری امت میں ان کے لیے ہے جو کبیرہ گناہ والے ہیں۔صلی اللہ علیک وسلم، والحمد ﷲ رب العلمین ۔اﷲ تعالٰی آپ پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا رپروردگار ہے۔(ت)
Hadith 4-8 : Abu Dawud, Tirmizi, Ibn Habban, Hakim, Bayhaqi narrate from Anas bin Malik by Sahih hadith.
Tirmizi, Ibn Majah, Ibn Habban and Hakim narrate from Jabir bin Abdullah
Tibrani Moajjam al-Kabir narrate from Abdullah bin Abbas
Khateeb Baghdadi narrate from Abdullah bin Umar Faruq and Ka'ab bin Ujrah.
The Prophet said : My intercession on the day of judgement will be for grave sinners from my ummah.
( ۱ ؎سُنن ابنِ ماجہ ابواب الزہد باب ذکر الشفاعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۹)
(سُنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی الشفاعۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۹۶)
(جامع الترمذی ابواب صفۃ القیمۃ باب ماجاء فی الشفاعۃ امین کمپنی دہلی۲ /۶۶)
(المستدرک للحاکم کتاب الایمان شفاعتی لاہل الکبائر من امتی دارالفکر بیروت ۱ /۶۹)
(السنن الکبرٰی کتاب الجنایات۸ /۱۷ وکتاب الشہادات دارصادر بیروت ۱۰ /۱۹۰)
(المعجم الکبیر حدیث ۱۱۴۵۴ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ /۱۸۹)
(موارد الظمٰان الٰی زوائد ابن حبان حدیث ۲۵۹۶ المطبعۃ السلفیہ ص۳۴۵)
( کنز العمال حدیث ۳۹۰۵۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۴/ ۳۹۸)
حدیث ۹ : ابوبکر احمد بن بغدادی حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : شفاعتی لاھل الذنوب من امتی ۔میری شفاعت میرے گنہگار امتیوں کے لیے ہے۔ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی :واِن زَنٰی واِن سَرَقَ اگرچہ زانی ہو، اگرچہ چور ہو) فرمایا :وان زنٰی وان سرق علٰی رغم انفِ ابی الدرداء ۲ ؎۔( اگرچہ زانی ہو اگرچہ چور ہو برخلاف خواہش ابودرداء کے)
( ۲ ؎تاریخ بغداد ترجمہ محمد بن ابراہیم الغازی ابن البصری دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۴۱۶)
Hadith 9 : Abu Bak'r Ahmad bin Baghdadi narrate from Abu Dardah, The Prophet said : My intercession is for the sinners of my ummah. Abu Dardah asked: Even if he has fornicated and even if he is a thief? He replied: Yes, even if he fornicated and even if he is thief.
حدیث ۱۰ و ۱۱ : طبرانی و بیہقی حضرت بریدہ اور طبرانی معجم اوسط میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : ان اشفع یوم القیمٰۃ لِاکثرمما علٰی وجہ الارض من شجروحجر ومدر ۱ ؎۔یعنی رُوئے زمین پر جتنے پیڑ، پتھر، ڈھیلے ہیں میں قیامت یں ان سب سے زیادہ آدمیوں کی شفاعت فرماؤں گا۔
Hadith 10-11: Tibrani and Bayhaqi narrate from Buraidah
Tibrani in Moa'jjam Ausat narrate from Anas
The prophet said : I will intercede on the day of judgement for the people more than trees, stones and mud on the face of earth.
(۱مسند احمد بن حنبل عن بریدہ الاسلمی المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۳۴۷)
(المعجم الاوسط حدیث ۵۳۵۶ مکتبۃ المعارف ریاض ۶ /۱۷۲)
(کنزالعمال حدیث ۳۹۰۶۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۴ /۳۹۹)
حدیث ۱۲ : بخاری، مسلم ، حاکم، بیہقی حضرت ابوہریرہ رضی ا للہ تعالٰی عنہ سے راوی ،واللفظ لھٰذین ( اور لفظ حاکم و بیہقی کے ہیں۔ت) حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :شفاعتی لمن شہدان لا اٰلہ الا اﷲ مخلصاً یصدق قلبہ لسانہ ۲ ؎۔میری شفاعت ہر کلمہ گو کے لیے ہے جو سچے دل سے کلمہ پڑھے کہ زبان کی تصدیق دل کرتا ہو۔
Hadith 12 : Bukari, Muslim, Hakim, Bayhaqi narrate from Abu Hurairah (words are of Hakim and Bayhaqi), The prophet said: My intercession is for those who testified there is no god but Allah, sincerely by heart and truthfully.
( ۲ ؎المستدرک للحاکم کتاب الایمان باب شفاعتی لمن یشھد الخ دارالفکر بیروت ۱ /۷۰)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی موسی الاشعری المکتب الاسلامی بیروت ۴/۴۰۴ و ۴۱۵)
(کنزالعمال حدیث ۳۹۰۷۹ و ۳۹۰۸۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۳۶۸ و ۳۶۹)
(مجمع الزوائد کتاب البعث باب ما جآء فی الشفاعۃ دارالکتاب بیروت ۱۰/ ۳۶۸ و۳۶۹)
حدیث ۱۳ : احمد ، طبرانی وبزار حضرت معاذ بن جبل و حضرت ابو موسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :انہا اوسع لھم وھی لمن مات ولایشرک باﷲ شیئا ۳ ؎۔شفاعت میں امت کے لیے زیادہ وسعت ہے کہ وہ ہر شخص کے واسطے ہے جو اﷲ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے یعنی جس کا خاتمہ ایمان پر ہو۔
Hadith 13: Ahmad, Tibrani and Bazzar narrate from Muaz bin Jabal and Abu Musa Ash'ari, The prophet said: In intercession there is extention , that is, it is for everyone who doesnt join anyone with Allah, that is, who died muslim.
حدیث ۱۴ : طبرانی معجم اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :اٰتی جہنم فاضرب بابہا فیفتح لی فادخلھا فاحمداﷲ محامد ما حمدہ احد قبلی مثلہا ولا یحمداحد بعدی ثم اخرج منھا من قال لا الہ الا اللہ ۱ ملخصاً ۔میں جہنم کا دروازہ کھلوا کر تشریف لے جاؤں گا وہاں خدا کی تعریف کروں گا، ایسی نہ مجھ سے پہلے کسی نے کیں نہ میرے بعد کوئی کرے، پھر دوزخ سے ہر اس شخص کو نکال لوں گا جس نے خالص دل سے لا الٰہ الا اﷲ کہا۔
Hadith 14: Tibrani in Moajam Ausat narrate from Abu Huraira, The Prophet said: I will go to hell and knock on its door. It will be opened for me and I will enter in it and would praise the lord, the praise which no one did before nor anyone would do after me. Then I will take out all the people who had said No god but Allah sincerely by heart.
( ۱ ؎المعجم الاوسط حدیث ۳۸۵۷ مکتبہ المعارف ریاض ۴ /۵۰۳)
حدیث ۱۵ : حاکم بافادہ تصحیح اور طبرانی و بیہقی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :یوضع للانبیاء منابر من ذھب فیجلسون علیھا ویبقٰی منبری لا اجلس علیہ او لا اقعد علیہ قائما بین یدی ربی مخافۃ ان یبعث بی الی الجنۃِ ویبقی اُمّتی بعدی فاقول یارب امتی امتی فیقول اﷲ عزوجل یا محمد ما ترید ان اصنع بامتک فاقول یا رب عجل حسابھم فما ازال اشفع حتی اعطٰی صکاکاً برجال قد بعث بھم الی النار حتی اَنّ مالکاً خازن النار فیقول یا محمد ما ترکت لغضب ربک فی امتک من نقمۃ ۲ ؎۔انبیا کے لیے سونے کے منبر بچھائیں گے وہ ان پر بیٹھیں گے، اور میرا منبر باقی رہے گا کہ میں اس پر جلوس نہ فرماؤں گا بلکہ اپنے رب کے حضور سر وقد کھڑا رہون گا اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو مجھے جنت میں بھیج دے اور میری امت میرے بعد رہ جائے پھر عرض کروں گا اے رب میرے ! میری امت ، میری امت، اﷲ تعالٰی فرمائے گا اے محمد، تیری کیا مرضی ہے میں تیری امت کے ساتھ کیا کروں؟ عرض کروں گا اے رب میرے ان کا حساب جلد فرمادے، پس میں شفاعت کرتا رہوں گا۔ یہاں تک کہ مجھے ان کی رہائی کی چھٹیاں ملیں گی جنہیں دوزخ بھیج چکے تھے یہاں تک کہ مالک داروغہ دوزخ عرض کرے گا اے محمد ! آپ نے اپنی امت میں رب کا غضب نام کو نہ چھوڑا۔
Hadith 15: Hakim narrate from sound narration, Tibrani and Bayhaqi narrate from Abdullah bin Abbas, The prophet said: Pulpits of gold will be place for prophets and they will sit on them. My pulpit will remain free and I would not sit on it instead I will be standing in the court of Allah, fearing may he send me to Jannah and my ummah stay back. I will say : O my lord! My ummah! my ummah! Allah, the exalted will say: O Muhammad! What is your wish? What should I do with your ummah? I will say: O my lord! do their judgment early so that I intercede for them, I would even free the men who were sent to hell until the guardian of hell would say: O muhammed! you did not leave anyone from your ummah who would face anger of the lord.
( ۲ ؎المستدرک للحاکم کتاب الایمان باب الانبیاء منابرمن ذہب دارالفکر بیروت ۱ /۶۵و ۶۶)
(المعجم الاوسط حدیث ۲۹۵۸ مکتبۃ المعارف ریاض ۳ /۴۴۶ و ۴۴۷)
( الترغیب والترہیب کتاب البعث فصل فی الشفاعۃ مصطفٰی البابی مصر ۴ /۴۴۶)
اللھم صلی وبارک علیہ والحمد اﷲ رب العلمین ۔اے اﷲ ! درود و برکت نازل فرما ان پر ، اور تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۱۶ تا ۲۱ : بخاری و مسلم و نسائی حضرت جابر بن عبداﷲ اور احمد بسندِ حسن اور بخاری تاریخ میں اور بزار اور طبرانی و بیہقی و ابونعیم حضرت عبداﷲ بن عباس، اور احمد بسندِ حسن و بزار بسندِ جیدّ و دارمی و ابن ابی شیبہ و ابویعلٰی وابونعیم وبیہقی حضرت ابوذر، اور طبرانی معجم اوسط میں بسند حضرت ابوسعید خدری، اور کبیر میں حضرت سائب بن زید، اور احمد باسنادِ حسن اور ابن ابی شیبہ و طبرانی حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی : واللفظ لجابر قال قال رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اُوعطیت ما لم یعط احد قبلی الٰی قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم واعطیت الشفاعۃ۱ ؎۔
Hadith 14-21
اور لفظ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے وہ کچھ عطا ہوا جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دیا گیا"۔
And words of Jabir are that the Prophet said : I have been given which was not given to anyone before me.
( ۱ ؎ صحیح بخاری کتاب التیم وقولہ تعالٰی فلم تجدواماءً قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۸)
(صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب قولہ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جعلت لی الارض مسجداً کراچی ۱ /۶۲)
(صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلوۃقدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۹)
(سنن النسائی کتاب الغسل والتمیم باب التمیم بالصعید نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۷۴)
(مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اللہ عنہالمکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۰۱)
(المعجم الکبیرعن ابن عباس رضی اللہ عنہالمکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۰۱)
(المعجم الکبیر عن ابن عباس رضی اللہ عنہ حدیث ۱۱۰۸۵ المکتب الاسلامی بیروت ۱۱ /۷۳)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۶۲)
(الترغیب و الترھیب بحوالہ البزار فصل فی الشفاعۃ مصطفٰے البابی مصر۴ /۴۳۳)
(المعجم الاوسط حدیث ۷۴۳۵ مکتبۃ المعارف ریاض۸ /۲۱۲)
(المعجم الکبیر عن سائب بن زید حدیث ۶۶۷۳ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۷ /۱۵۵)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی موسٰی المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۴۰۴)
ان چھیوں حدیثوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں میں شفیع مقرر کردیا گیا اور شفاعت خاص مجھی کو عطا ہوگی میرے سوا کسی نبی کو یہ منصب نہ ملا۔
In these 6 ahadith it is told that the Prophet said : I have been appointed the intercessor and special intercession will be given to me and no prophet other than me got this status.
حدیث ۲۲ و ۲۳: ابن عباس وابوسعید وا بو موسٰی سے انہیں حدیثوں میں وہ مضمون بھی ہے جو احمد و بخاری و مسلم نے انس اور شیخین نے ابوہریرہ (رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین) سے روایت کیا کہ حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :ان لکل نبی دعوۃ قددعا بہا فی امتہ واستجیب لہ۱؎۔ وھذااللفظ الانس ولفظ ابی سعید لیس من نبی الا وقد اُعطی دعوۃ فتعجّلہا۲ ؎۔ (ولفظ ابن عباس) لم یبق نبی الا اُعطی سؤلہ۳ ؎۔ رجعنا الٰی لفظ انس والفاظ الباقین کمثلہ معنیً قال وانی اختبات دعوتی شفاعۃ لِاُمتی یوم القٰیمۃ ۴ ؎۔(زاد موسٰی) جعلتہا لمن مات من امتی لایشرک باﷲ شیئا ۵ ؎۔
Hadith 22-23 : The ahadith narrated by Ibn Abbas, Abu Sa'eed and Abu Moosa which has the content which is narrated by Ahmad, Bukhari, Muslim on the authority of Shaykhain and Abu Huraira that : The Prophet said :
ہر نبی کے لیے ایک خاص دعا ہے جو وہ اپنی امت کے بارے میں کرچکا ہے اور وہ قبول ہوئی ہے، یہ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لفظ ہیں، اور حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لفظ یوں ہیں کہ نہیں ہے کوئی نبی مگر یہ کہ اُسے ایک خاص دعا عطا ہوئی جسے اس نے دنیا میں مانگ لیا۔ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے لفظ ہیں کہ کوئی نبی نہ بچا جس کو خاص دُعا عطا نہ ہوئی ہو، ہم حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے الفاظ کی طرف رجوع کرتے ہیں، باقی راویوں کے الفاظ معنی کے اعتبار سے اُن ہی کی مثل ہیں۔ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ۔ میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے بچا رکھا ہے۔" ابو موسٰی نے اضافہ کیا کہ میں ہر اُس امتی کے لیے شفاعت کروں گا جو اس حال پر مرا کہ اﷲ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا۔(ت)
There is a special supplication for each Prophet, which he has done for his ummah and that has been accepted. These are the words of Anas.
The words of Abu Sa'eed are : There no prophet but he is given a special supplication, which he requested in this world itself.
The words of Ibn Abbas are : No Prophet is left, who has not been given a special supplication.
We get back to the words of Anas, words of other narraters are same as his, per meaning. The Prophet said : I have saved my supplication for the day of judgement, for the intercession of my ummah.
Abu Moosa added : I will intercede for my every ummati who died in the state that he didnt join anyone with Almighty Allah.
یعنی انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کی اگرچہ ہزاروں دُعائیں قبول ہوتی ہیں مگر ایک دُعا انہیں خاص جناب باری تبارک و تعالٰی سے ملتی ہے کہ جو چاہے مانگ لو بے شک دیا جائے گا تمام انبیاء آدم سے عیسٰی تک ( علیہم الصلوۃ والسلام) سب اپنی اپنی وہ دُعا دنیا میں کرچکے اور میں نے آخرت کے لیے اٹھا رکھی، وہ میری شفاعت ہے میری امت کے لیے قیامت کے دن، میں نے اسے اپنی ساری امت کے لیے رکھا ہے جو ایمان پر دنیا سے اُٹھی۔
It means, even though thousands supplications of Prophet is accepted but one special supplication is given to them from the court of almighty Allah, ask whatever you want and it will indeed be given. All the prophets from Aadam to Isaa have done that special supllication in this world but I have saved for the next world, that is my intercession for my ummah on the day of judgement. I have saved it for my whole ummah who left the world with faith.
( ۱ ؎ صحیح بخاری کتاب الدعوات باب قول اﷲ تعالٰی ادعونی استجب لکم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۳۲)
( صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۳)
(مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰۸ )
( ۲ ؎ مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخذری رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰)
( ۳ ؎السنن الکبری کتاب الصلوۃ باب اینما ادرکتک الصلوۃ فصل الخ دارصادر بیروت ۲ /۴۳۳)
( ۴ ؎ صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۳)
(مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰۸)
( ۵ ؎ مسند احمد بن حنبل عن ابی موسٰی الاشعری رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۴۱۶)
اللّٰھم ارزقنا بجاھہ عندک اٰمین !اے اﷲ ! ہمیں ان کی اس وجاہت کے صدقے میں عطا فرما جو اُن کو تیری بارگاہ میں حاصل ہے۔(ت)
اﷲ اکبر ! اے گنہگار ان اُمّت! کیا تم نے اپنے مالک و مولٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی یہ کمال رأفت و رحمت اپنے حال پر نہ دیکھی کہ بارگاہِ الہٰی عزوجلالہ سے تین سوال حضور کو ملے کہ جو چاہو مانگ لو عطا ہوگا۔ حضور نے ان میں کوئی سوال اپنی ذات پاک کے لیے نہ رکھا، سب تمہارے ہی کام میں صرف فرمادیئے دو سوال دنیا میں کیے وہ بھی تمہارے ہی واسطے ، تیسرا آخرت کو اٹھا رکھا، وہ تمہاری اس عظیم حاجت کے واسطے جب اس مہربان مولٰی رؤف و رحیم آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سوا کوئی کام آنے والا، بگڑی بنانے والا نہ ہوگا۔( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) حق فرما یا حضرت حق عزوجل نے :عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم ۱ ؎۔اُن پر تمہارا مشقّت میں پڑنا گراں ہے، تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر کمال مہربان ۔(ت)
Allahu Akbar! O sinners, have not seen the mercy of your leader & saviour on yourselves? Three wishes from the court of Allah was granted to the Prophet that seek whatever you want and it will be fulfilled. The Prophet didnt ask even a single wish for himself, but wished all for you. The prophet seeked 2 wishes in this world and that too for you, left third one for the day of judgement, for your extreme need when other than merciful and compassionate leader will be of any help. Allah, the exalted says : your falling into hardship aggrieves him, most concerned for your well being, for the Muslims most compassionate, most merciful.(9:128)
(۱ القرآن الکریم ۹/ ۱۲۸)
واﷲ العظیم !قسم اس کی جس نے انہیں آپ پر مہربان کیا ہر گز ہر گز کوئی ماں اپنے عزیز پیارے اکلوتے بیٹے پر زنہار اتنی مہربان نہیں جس قدر وہ اپنے ایک امتی پر مہربان ہیں۔(صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم)الہٰی ! تو ہمارا عجزو ضعف اور اُن کے حقوقِ عظیمہ کی عظمت جانتا ہے۔ اے قادر ! اے واجد!ہماری طرف سے اُن پر اور اُن کی آل پر وہ برکت والی درودیں نازل فرما جو ان کے حقوق کو وافی ہوں اور ان کی رحمتوں کو مکافی۔
I swear by the Allah, the greatest. I swear by the one who made him compassionate on us. A mother will never ever be compassionate on her only beloved child, more than the compassion the prophet has for his single follower. O lord, send upon him and on his family, the blessings which suffice his rights and his mercy.
اللھم صلّ وسلم وبارک علیہ وعلٰی الہ وصحبہ قدر رأفتہ و رحمۃ بامتہ وقدرأفتک ورحمتک بہ اٰمین اٰمین الہ الحق امین۔اے اﷲ ! درود و سلام اور برکت نازل فرما آپ پر، آپ کی آل پر اور آپ کے اصحاب پر جتنا کہ وہ اپنی اُمت پر مہربان ہیں اور جس قدر تو ان پر مہربان ہے۔ اے معبود برحق ! ہماری دُعا قبول فرما۔ت
O Allah, send peace and blessings on him,his family and companions like
سبحن اﷲ !امتیوں نے ان کی رحمتوں کا یہ معاوضہ رکھا کہ کوئی افضلیت میں تشکیلیں نکالتا ہے۔ کوئی ان کی تعریف اپنی سی جانتا ہے، کوئی ان کی تعظیم پر بگڑ کر کرّاتاہے۔ افعالِ محبت کا بدعت نام اجلال وادب پر شرک کے احکام،
His followers
انّا ﷲ وانّا الیہ راجعون ، وسیعلم الذین ظلمواایّ منقلب ینقلبون ، ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔بے شک ہم اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں اور ہم کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، عنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹتے ہیں، اور اﷲ بلند و عظیم کی توفیق کے بغیر نہ تو گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت ۔(ت)
حدیث ۲۴ : صحیح مسلم میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اللہ تعالٰی نے مجھے تین سوال عطا فرمائے، میں نے دو بار تو دنیامیں عرض کرلی :اللّٰھم اغفرلامّتی اللھم اغفرلامتی الہی !میری اُمت کی مغفرت فرما، الہٰی میری اُمت کی مغفرت فرما۔الہٰی ! میری اُمت کی مغفرت فرما۔ "
واخّرت الثالثۃ لیوم یرغب الیّ فیہ الخلق حتی ابراہیم۱ ؎۔اور تیسری عرض اس دن کے لیے اٹھا رکھی جس میں مخلوقِ الہٰی میری طرف نیاز مند ہوگی یہاں تک کہ ابراہیم خلیل اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام۔
( ۱ ؎ مسند احمد بن حنبل عن ابی بن کعب المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۲۷)
(صحیح مسلم کتاب فضائل القرآن باب بیان ان القرآن انزل علٰی سبعۃ حرف قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۷۳)
وصل وسلم بارک علیہ والحمد ﷲ رب العلمین۔اور درود و سلام و برکت نازل فرما اُن پر، اور تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
حدیث ۲۵: بیہقی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے شبِ اسرٰی اپنے رب سے عرض کی۔ تُو نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو یہ یہ فضائل بخشے، رب عزمجدہ، نے فرمایا : اعطیتک خیراً من ذلک (الٰی قولہ) خبأت شفاعتک و لم اخبأھالنبی غیرک ۲ ؎۔میں نے تجھے جو عطا فرمایا وہ ان سب سے بہتر ہے، میں نے تیرے لیے شفاعت چھپا رکھی اور تیرے سوا دوسرے کو نہ دی۔
Hadith 25: Bayhaqi narrates from Abu Hura'ira, The Prophet said to his lord on the night Me'raj : You have bestowed Prophets these virtues. Almighty said : What I have bestowed you is better than all of them, I have hidden intercession for you and didn't give it to anyone other than you.
( ۲ ؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الثالث الفصل الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۳۴)
حدیث ۲۶ : ابن ابی شیبہ و ترمذی بافادہ تحسین وتصحیح اور ابن ماجہ و حاکم بحکم تصحیح حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :اذاکان یوم القیمۃ کنت امام النبیین وخطیبھم وصاحب شفاعتھم غیر فخر ۱ ؎۔قیامت کے دن میں انبیاء کا پیشوا اور ان کا خطیب اور ان کا شفاعت والا ہوں اور یہ کچھ فخر کی راہ سے نہیں فرماتا۔
Hadith 26:Ibn Abi She'bah and Tirmzi by sound and correct narrations and Ibn Majah & Hakim by sahih narration, narrate from Abi bin Ka'ab, The Prophet said: On the day of Judgement I will be the leader of Prophets, I will be their speaker and intercessor and I do not boast.
( ۱ ؎جامع الترمذی ابواب المناقب باب منہامین کمپنی دہلی ۲ /۲۰۱)
(سنن ابن ماجہ ابواب الزہد باب ذکرالشفاعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۳۰)
(المستدرک للحاکم کتاب الایمان باب اذاکان یوم القیمۃ الخ دارالفکربیروت ۱/ ۷۱)
حدیث ۲۷ تا ۴۰ : ابن منیع، حضرت زید بن ارقم وغیرہ چودہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی، حضرت شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : شفاعتی یوم القٰیمۃ حق فمن لم یؤمن بہا لم یکن من اھلہا ۲ ؎۔میری شفاعت روزِ قیامت حق ہے جو اس پر ایمان نہ لائے گا اس کے قابل نہ ہوگا۔
Hadith 27-40:
Ibn Mu'nee narrate from Zaid bin Arqam and 14 other companions, The Prophet said : My intercession the day of judgement is true, one who doesnt believe it woulnt be worthy of it.
( ۲ ؎کنزالعمال بحوالہ ابن منیع عن زید بن ارقم الخ حدیث ۳۹۰۵۹ مؤستہ الرسالہ بیروت ۱۴ /۳۹۹)
منکرمسکین اس حدیثِ متواتر کو دیکھے اور اپنی جان پر رحم کرکے شفاعتِ مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ایمان
لائے۔
Poor rejectors look at this mutawatir (consecutive) hadith and have mercy on his soul by beleiving in the intercession of the Prophet.
"اللّٰھم انک تعلم ھدیت فٰامنّا بشفاعۃ حبیبک محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فاجعلنا من اھلہا فی الدنیا والاخرۃ یا اھل التقوٰی واھل المغفرۃ واجعل اشرف صلواتک وانمی برکاتک وازکٰی تحیاتک علٰی ھذاالحبیب المجتبٰی والشفیع المرتضٰی وعلٰی اٰلہ وصحبہ دائماً ابداً امین یا ارحم الرحمین ، والحمدﷲ رب العلمین۔
اے اﷲ ! تُو جانتا ہے، بے شک تُو نے ہدایت عطا فرمائی ہے، تو ہم تیرے حبیب محمد مصطفٰے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شفاعت پر ایمان لائے ہیں۔
اے اﷲ! تو میں دُنیا وآخرت میں لائق شفاعت بنادے۔اے تقوٰی ومغفرت والے ! اپنا افضل درود ، اکثر برکات اور پاکیزہ تحیات بھیج اس منتخب محبوب پر جس کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے اور آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے، اے بہترین رحم فرمانے والے ! ہماری دُعا کو قبول فرما۔ اور تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
O Allah, Indeed you know that you guided me, so we believed in the intercession of your beloved.
O Allah, make me worthy of intercession in this world and the next. O the righteous and forgiving send your greatest peace, abundance blessings and pure greetings on the selected beloved whose intercession is hoped for and on his family and his companions forever and ever.
O the most merciful, accept our prayers.
All praise belong to Allah who us creator of whole universe.
No comments:
Post a Comment